منگل 10 فروری 2026 - 19:12
۲۲ بہمن دنیا کے مظلوموں کی آزادی، اسلامی عزت، شجاعت اور سربلندی کا دن ہے: مولانا سید صفدر حسین زیدی

حوزہ/ مولانا سید صفدر حسین زیدی، مدیر جامعہ امام جعفر صادقؑ اور صدر امام بارگاہ جونپور (ہند) نے انقلاب اسلامی ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پرکہا کہ ۲۲ بہمن (۱۱ فروری) صرف ایران کی تاریخ کا ایک اہم دن ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن اور اسلامی غیرت و شجاعت کی علامت بن چکا ہے۔ آئیے اس دن کی تاریخی حیثیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید صفدر حسین زیدی، مدیر جامعہ امام جعفر صادقؑ اور صدر امام بارگاہ جونپور (ہند) نے انقلاب اسلامی ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پرکہا کہ ۲۲ بہمن (۱۱ فروری) صرف ایران کی تاریخ کا ایک اہم دن ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن اور اسلامی غیرت و شجاعت کی علامت بن چکا ہے۔ آئیے اس دن کی تاریخی حیثیت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

۲۲ بہمن — مظلوموں کی پناہ گاہ اور اسلامی شجاعت کی علامت

انہوں نے کہا کہ تاریخِ انسانی میں بہت سے دن ایسے گزرے ہیں جو وقت کی گرد میں دب کر فراموش ہو جاتے ہیں، مگر کچھ دن اپنی اہمیت اور اثرات کے باعث ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ۲۲ بہمن ۱۹۷۹ء (۱۱ فروری) ہے، جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاسی اور فکری نقشے کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ یہی وہ دن تھا جب ایران میں ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کا خاتمہ ہوا اور ایک عوامی و اسلامی نظام کا قیام عمل میں آیا۔ اس واقعے نے استعماری قوتوں کے تکبر کو بھی واضح چیلنج دیا۔

بیسویں صدی میں یہ تصور عام ہو چکا تھا کہ کوئی بھی ملک امریکہ یا بڑی طاقتوں کی حمایت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، اور ایران کا شاہی نظام اس وقت خطے میں مغربی طاقتوں کا مضبوط ترین سہارا سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ۲۲ بہمن نے اس مفروضے کو غلط ثابت کرتے ہوئے دکھایا کہ ایمان، عوامی اتحاد اور عزم کے سامنے مادی طاقتیں بے بس ہو جاتی ہیں۔

اسلامی عزت اور خود مختاری کا احیا

مزید کہا کہ ایک طویل عرصے تک اسلامی دنیا فکری اور سیاسی طور پر مغرب سے مرعوب رہی، جس سے مایوسی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم ۲۲ بہمن کے انقلاب نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو سیاست، معیشت اور معاشرت کے میدان میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

"نہ شرقی، نہ غربی" کے نعرے نے مسلمانوں کو اپنی اصل شناخت اور خودمختاری کی طرف متوجہ کیا۔

دنیا کے مظلوموں کے لیے امید کی شمع

اس انقلاب کی کامیابی نے دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں—خواہ وہ فلسطین ہو، لبنان ہو یا افریقہ کے محروم خطے—کو یہ سبق دیا کہ مضبوط ارادوں اور عوامی اتحاد کے ذریعے بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے مظلوم طبقات اس انقلاب کو اپنے لیے ایک مثال سمجھتے ہیں۔

شجاعت اور سربلندی کی داستان

انکا کہنا تھا کہ اس انقلاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ یہ بنیادی طور پر ایک عوامی تحریک تھی جس میں بیرونی امداد شامل نہیں تھی۔ اس کی قیادت امام خمینیؒ نے کی، جن کے پاس نہ کوئی فوج تھی اور نہ اسلحہ، مگر ان کے عزم اور شجاعت نے عوام کے دلوں سے خوف نکال دیا۔ اسی استقامت نے ایران کو ایک مضبوط اور باوقار ملک کے طور پر سامنے لایا۔

۲۲ بہمن اس حقیقت کا واضح اعلان ہے کہ جو قوم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ظلم کے خلاف کھڑی ہو جائے، کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ عزت سمجھوتے میں نہیں بلکہ حق پر ثابت قدمی اور مزاحمت میں ہے۔ شجاعت کا مطلب خوف کا نہ ہونا نہیں بلکہ حق کے لیے ڈٹ جانا ہے۔

کیونکہ حقیقی سربلندی اللہ کی بندگی اور اس کی مخلوق کی خدمت میں ہے: "اِن تَنصُرُوا اللّٰہَ یَنصُرْکُمْ" — اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha